9 اشعار

جو مشکل تھی اسے آساں بناتا جا رہا تھا

Jo mushkil thi use aasan banata ja raha tha

جو مشکل تھی اسے آساں بناتا جا رہا تھاکہ جو ہوتا تھا میں اس کو بھلاتا جا رہا تھا

مجھے بھی اپنی سچائی پہ ذرہ بھر نہ شک تھازمانہ بھی قسم اپنی اٹھاتا جا رہا تھا

کوئی تھا جو کہ تکتا جا رہا تھا کارخانہکوئی تھا کارخانہ جو چلاتا جا رہا تھا

بدلتی جا رہی تھی میری حالت لحظہ لحظہکسی کو جس طرح میں یاد آتا جا رہا تھا

کہیں اندھی بھکارن لڑکھڑاتی جا رہی تھیجو پانی تھا زد جاروب کھاتا جا رہا تھا

زلیخائے زمانہ میری آنکھوں میں چھپی تھییہ ملک مصر تھا اور سوت کاتا جا رہا تھا

جو پانی تھا وہ اک دہشت میں بڑھتا آ رہا تھاجو دریا تھا کناروں کو اڑاتا جا رہا تھا

زمانوں کے مطابق باب بندھتے جا رہے تھےکنار وقت میں فصلیں لگاتا جا رہا تھا

کہاں اندھے کنوئیں ہیں ان کو بھرتا جا رہا تھاکہاں رستے ہی رستے ہیں بتاتا جا رہا تھا

— اقتدار جاوید