12 اشعار

پھول کے واسطے دعا کیجے

Phool ke vaaste dua kijiye

پھول کے واسطے دعا کیجےیہ نشہ ہے ذرا نشہ کیجے

ایک تلقین ہے محبت کیجو نہ مانے اسے دفعہ کیجے

کھاٹ ڈالی ہے پیڑ کے نیچےآتے جاتے ذرا ملا کیجے

نہیں کرسی نشین کی دعوتصحن میں چاندنی ذرا کیجے

آپ آئے ہو اس کی دنیا میںاس کا کفارہ بھی ادا کیجے

دھوپ پر ڈالیے کوئی مخملچھاؤں کے واسطے ہوا کیجے

شعر میں مشق تھوڑی ہے لازماپنی گاڑھی ذرا ضیا کیجے

موت کی بد دعا کے ہیں عادیان دعا گوؤں سے بچا کیجے

وقت کا کچھ پتہ نہیں چلتااپنی اوقات میں رہا کیجے

اتنے لوگوں میں بات کیا کرنیبیچ بازار کیا صدا کیجے

مسکرانے کا کوئی وقت نہیںکام کرتے بھی کچھ ہنسا کیجے

مشوروں کا ہے اک طرح کا شوراس طرح کیجے اس طرح کیجے

— اقتدار جاوید