9 اشعار

کسی تہہ سے ابھرتا جا رہا ہوں

Kisi teh se ubharta ja raha hoon

کسی تہہ سے ابھرتا جا رہا ہوںکنواں پانی سے بھرتا جا رہا ہوں

چمک اٹھے گی تھوڑی دیر میں صبحفضا تصویر کرتا جا رہا ہوں

یہاں پانی تڑپ اٹھے گا شایدکوئی دہشت ہے ڈرتا جا رہا ہوں

مری نیلاہٹیں بھی ہیں ابد زافلک اوپر بکھرتا جا رہا ہوں

یہ کن ہاتھوں میں میں آیا ہوا ہوںیہ کن لوگوں میں برتا جا رہا ہوں

کسی کے آسماں کا چاند ہوں میںمنڈیروں پر اترتا جا رہا ہوں

ہوا ہوں اور نظر آتا نہیں ہوںعلاقوں سے گزرتا جا رہا ہوں

کسی کا حسن دل افروز ہوں میںسو آئے دن نکھرتا جا رہا ہوں

کوئی کھلنے کی بار آور گھڑی ہےقباؤں کو کترتا جا رہا ہوں

— اقتدار جاوید