10 اشعار

لیے پھرتا ہے یہ آزار اپنے راستے کا

Liye phirta hai yeh azaar apne raaste ka

لیے پھرتا ہے یہ آزار اپنے راستے کافقط پانی ہے واقف کار اپنے راستے کا

میں دیکھے جا رہا ہوں ساری چیزوں کو دوبارہہوا تھا خواب میں دیدار اپنے راستے کا

کوئی لمبے سفر پر دور جانا چاہتا ہےکہ ہر کوئی ہے خود مختار اپنے راستے کا

کٹی اک اور ہی نشے میں ہم راہی ہماریمرے ساتھ آ گیا بیزار اپنے راستے کا

سفر کو لوگ جو اجڑے ہوئے ملتے ہیں ان کوبنا دیتا ہے لالہ زار اپنے راستے کا

جڑی جاتی ہے مستی سے بھری مہکار کوئیمسافر آپ ہے گلزار اپنے راستے کا

پہنچنے یہ نہیں دے گا کسی کو بھی کہیں پرکہ مروائے گا خوش گفتار اپنے راستے کا

کئی قرنوں کے بعد اپنے کئے تھے پتے ظاہربتایا میں نے آخر کار اپنے راستے کا

بناتا ہوں گھنیری چھاؤں اور خود بیٹھتا ہوںشجر ہوں کوئی سایہ دار اپنے راستے کا

چلے آؤ ابھی چپ چاپ میرے پیچھے پیچھےکروں گا ایک دن اظہار اپنے راستے کا

— اقتدار جاوید