9 اشعار

مجھ کو معلوم ہے بارگاہ سخن میں بڑا کون ہے

Mujh ko maloom hai bargah-e-sukhan mein bada kaun hai

مجھ کو معلوم ہے بارگاہ سخن میں بڑا کون ہےکس کو نیچے گرا کر کچل کر اسی پر کھڑا کون ہے

یہ اگر میں نہیں کون پانی میں ہے مضطرب اس طرحیہ اگر تو نہیں تو کناروں کی صورت گڑا کون ہے

یہ مرا مسئلہ رات دن کا نہیں کوئی تنکا نہیںکشتیوں والی حیران ہے کہ بھنور میں اڑا کون ہے

دونوں کی زندگی زندگی دوستی نبھ رہی ہے بہتایک مچھلی ہے اور ایک پانی ہے یہ آنکڑا کون ہے

کوئی لذت بھرا کوئی ندرت بھرا اس زمیں سے الگیہ پکا پھل نہیں تو درختوں سے آخر جھڑا کون ہے

ایک بارش کے بعد ایک دو بوندوں والے سمے کی طرحجو مرے سنگ ہو رنگ ہی رنگ ہو وہ دھڑا کون ہے

بے پرت بے صفت جیسے بھی ہیں یہاں آمنے سامنےجو ہے اوٹوں بھرا اور کہیں پر ہے پرتوں پڑا کون ہے

کوئی سیال سونا ہے اک جس کا ہونا بتایا ہواسارے اک جیسے ہیں ویسے کے ویسے اس کا جڑا کون ہے

کوئی سورج نہیں جو افق چیر کر سامنے آ سکےکوئی گھاٹی نہیں کون اترا یہاں سے چڑھا کون ہے

— اقتدار جاوید