9 اشعار

مجھ کو میری شخصیت سے با خبر کرتا ہے تو

Mujh ko meri shakhsiyat se ba-khabar karta hai tu

مجھ کو میری شخصیت سے با خبر کرتا ہے تولفظ و معنی کس طرح باہم دگر کرتا ہے تو

منقسم ہوتے ہیں روز و شب ہمارے سامنےوقت ظاہر کس طرح گھڑیال پر کرتا ہے تو

جاں بنی ہے بود و باش آدمی کے واسطےیہ مکاں تعمیر سب سے پیشتر کرتا ہے تو

یہ مرا انعام کتنا جان پاتا ہوں تجھےیہ مری توفیق کتنا معتبر کرتا ہے تو

شکر بھی اک پنجگانہ فرض ہے بہر اداکیا محبت ہے کہ اس کو ہم سفر کرتا ہے تو

راس آتی ہے دم صبح سیدھ سطروں کی تجھےرات بھر خم دار گلیوں سے گزر کرتا ہے تو

یوں بھی اس کا نین نقشہ بھولنے والا نہیںآنکھ میں رکھ کر اسے محفوظ تر کرتا ہے تو

رات بھی چھتری ہے جو کھلتی نہیں پوری طرحکیفیت جو رات کے پچھلے پہر کرتا ہے تو

جس طرح الفاظ کو میں ڈھالتا ہوں شعر میںجس طرح ریشم کے کیڑے کو خبر کرتا ہے تو

— اقتدار جاوید