13 اشعار

رہائی

Rihayi

رہائی

«رہائی» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے عبدالقدیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

اسیر لوگواٹھو اور اٹھ کر پہاڑ کاٹو

پہاڑ مردہ روایتوں کےپہاڑ اندھی عقیدتوں کے

پہاڑ ظالم عداوتوں کےہمارے جسموں کے قید خانوں میں

سیکڑوں بے قرار جسماور اداس روحیں سسک رہی ہیں

وہ زینہ زینہ بھٹک رہی ہیںہم ان کو آزاد کب کریں گے

ہمارا ہوناہماری ان آنے والی نسلوں کے واسطے ہے

ہم ان کے مقروض ہیںجو ہم سے وجود لیں گے نمود لیں گے

کٹے ہوئے ایک سر سے لاکھوں سروں کی تخلیقاب کہانی نہیں رہی ہے

لہو میں جو شے دھڑک رہی ہے گمک رہی ہےہزاروں آنکھیں

بدن کے خلیوں سے جھانکتی بے قرار آنکھیںیہ کہہ رہی ہیں

اسیر لوگوںجو زرد پتھر کے گھر میں

یوں بے حسی کی چادر لپیٹ کر سو رہے ہیںان کو کہو کہ اٹھ کر پہاڑ کاٹیں

ہمیں رہائی کی سوچنا ہے

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں