16 اشعار

رتجگا

Rutjaga

رتجگا

«رتجگا» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

وہ میری زندگی کا سب سے پہلا رتجگا تھاجب قدم رکھا تھا میں نے زندگی کی ساتویں شب میں

دسمبر کی اکتیس اور عروج ماہ کی وہ آخر شب تھیکہا جاتا ہے

اس شب ساتویں آکاش پر تقدیر کے سچے فرشتے نےترا بندھن ہمیشہ کے لیے یوں مجھ سے باندھا تھا

مرے ماتھے پہ کچھ اپنے قلم سے حرف لکھے تھےمری ماں نے اسی شب

آیتوں کے سائے میںتاروں کی چھاؤں میں

اکیلا چاند دیکھا تھاچراغاں ہی چراغاں تھا

مرے پرکھوں کے ہاتھوں میںقلم تھا ایک چاندی کا

زباں پر آیتیں تھیں اور ہتھیلی پرپرانا نقرئی پیالہ

مرے ماتھے پہ چاندی کے قلم سے ان بزرگوں نےسنہری حرف لکھا تھا

چراغاں ہی چراغاں تھادسمبر کی اکتیس اور عروج ماہ کی پھر آخری شب ہے

مگر امشبفرشتے سو چکے

وہ بھی جنہوں نے آسماں پر تیرا بندھن مجھ سے باندھا تھامرے پرکھوں کو بھی نیند آ گئی کب کی

کئی پوچھےانہوں نے میرے ماتھے پر جو اجلے حرف لکھے تھے

وہ سارے رنگ کچے تھےوہ سارے حرف جھوٹے تھے

میں جب سے آج تک اک رت جگے کی کیفیت میں ہوںاکیلا چاند ہنستا ہے

فرشتوں کا لکھا اک حرف آنکھوں میں چمکتا ہےچراغاں ہی چراغاں ہے

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں