26 اشعار

وہ جو یادوں کی روشنی سی تھی

Wo jo yaadon ki roshni si thi

وہ جو یادوں کی روشنی سی تھی

«وہ جو یادوں کی روشنی سی تھی» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

وہ جو یادوں کی روشنی سی تھیوہ جو آباد اک گلی سی تھی

وہ جو اک شہر تھا سمندر سااور سمندر پہ چاندنی سی تھی

وہ جو جنگل تھا اک کواڑوں کااور جنگل میں زندگی سی تھی

وہ جو دیوار پیچھے مکھڑے تھےاور مکھڑوں پہ تازگی سی تھی

وہ جو اک باڑھ تھی گلابوں کیوہ جو خوشبو دھلی دھلی سی تھی

وہ جو رستے میں ایک کٹیا تھیوہ جو بڑھیا جھکی جھکی سی تھی

وہ جو صورت پہ تھا نمک اس کیوہ جو باتوں میں چاشنی سی تھی

وہ جو لڑکی تھی اک پہیلی سیوہ پہیلی جو ان کہی سی تھی

وہ جو کونے پہ ایک جامن تھاوہ جو ڈالی ہری بھری سی تھی

وہ جو لڑکوں کی ایک گارد تھیوہ جو اک فاختہ ڈری سی تھی

وہ جو لڑکا تھا اک چھریرا سااور رنگت بھی سانولی سی تھی

نام بھی یاد ہے بتائیں کیاشکل بھی یاد ہے بھلی سی تھی

وہ جو اک پیڑ تھا پرانا ساپیڑ اوپر جو اک پری سی تھی

وہ جو ویراں سی ایک مسجد تھیوہ جو دیوار اک گری سی تھی

شاہ جنات جس میں رہتا تھاٹیڑھی میڑھی جو اک گلی سی تھی

وہ جو بوڑھا تھا سرخ آنکھوں کاوہ جو لڑکی بجھی بجھی سی تھی

وہ جو بادل سا ایک پردہ تھاایک کھڑکی جو ادھ کھلی سی تھی

وہ جو کاغذ ملا دلا سا تھاوہ جو چٹھی مڑی تڑی سی تھی

وہ جو تھے آنسوؤں سے بگڑے حرفروشنائی اڑی اڑی سی تھی

وہ جو آنکھیں تھیں اک ستارہ سیوہ جو اک لو چراغ کی سی تھی

رات وہ حال پوچھنے آئےرات میں بھی تھکی تھکی سی تھی

میری مٹھی میں ایک کاغذ تھااور مٹھی بھنچی ہوئی سی تھی

پاس خبروں کا ایک ملبہ تھاتھی جو تصویر ادھ جلی سی تھی

اک خبر تھی بہت ادھوری سیایک سرخی کٹی پٹی سی تھی

اختلافات نے اجاڑ دیاوہ جو بستی بھری پری سی تھی

گھر جلے ہیں ہواؤں کی شہہ پرآتش غم تو بس یوں ہی سی تھی

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں