کھیلنے کودنے کی عمروں میں
کلام: عشرت آفریں
کھیلنے کودنے کی عمروں میںاک نہ اک بھائی ساتھ رہتا ہے نوجوانی میں کھل کے ہنسنے پر
خوف رسوائی ساتھ رہتا ہے اور اب عمر ڈھل گئی ہے تورنج تنہائی ساتھ رہتا ہے
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
کھیلنے کودنے کی عمروں میںاک نہ اک بھائی ساتھ رہتا ہے نوجوانی میں کھل کے ہنسنے پر
خوف رسوائی ساتھ رہتا ہے اور اب عمر ڈھل گئی ہے تورنج تنہائی ساتھ رہتا ہے
وہ میری زندگی کا سب سے پہلا رتجگا تھاجب قدم رکھا تھا میں نے زندگی کی ساتویں شب میں
دسمبر کی اکتیس اور عروج ماہ کی وہ آخر شب تھیکہا جاتا ہے