میرے پرکھوں کی پہلی دعا
کلام: عشرت آفریں
رات کی کوکھ سےصبح کی ایک ننھی کرن نے جنم یوں لیا
شب نے ننھی شفق کی گلابی حسیں مٹھیاں کھول کرکچھ لکیریں پڑھیں
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
رات کی کوکھ سےصبح کی ایک ننھی کرن نے جنم یوں لیا
شب نے ننھی شفق کی گلابی حسیں مٹھیاں کھول کرکچھ لکیریں پڑھیں
وہ جو یادوں کی روشنی سی تھیوہ جو آباد اک گلی سی تھی
وہ جو اک شہر تھا سمندر سااور سمندر پہ چاندنی سی تھی