5 اشعار

اپنے گھر اس نے بات کی تھی مری

Apne Ghar Us Ne Baat Ki Thi Meri

اپنے گھر اس نے بات کی تھی مریاور پھر شامت آ گئی تھی مری

چاند اک بام پر اتر گیا تھااور وہ رات آخری تھی مری

کیا کروں اس کے ہاتھ کٹ گئے تھےجس کے ہاتھوں میں زندگی تھی مری

پاؤں چادر سے باہر آ رہے تھےخواہش اوقات سے بڑی تھی مری

ہاتھ وہ کل کسی کے ہاتھ میں تھااور اس ہاتھ میں گھڑی تھی مری

— اسماعیل راز