5 اشعار

تجھے خبر نہیں ہم پر دباؤ ڈالے گئے

Tujhe Khabar Nahin Hum Par Dabao Dale Gaye

تجھے خبر نہیں ہم پر دباؤ ڈالے گئےکہ تیرے شہر سے نکلے نہیں نکالے گئے

ہوئے ہیں رسوا ہی لیکن بہت مزہ آیازباں زباں تری بستی میں ہم اچھالے گئے

ابھی ابھی یہاں بانٹی گئی ہے راحت جاںابھی ابھی یہاں سینوں سے دل نکالے گئے

ابھی ابھی تو تری جستجو کو ترک کیاابھی ابھی تو مری ایڑیوں کے چھالے گئے

ابھی ابھی تو قیامت سے آشنا ہوئے ہمابھی ابھی تو کوئے یار سے نکالے گئے

— اسماعیل راز