5 اشعار

بہت ستایا ہے مجھ کو ذرا سی جا کے لئے

Bahut sataya hai mujh ko zara si ja ke liye

بہت ستایا ہے مجھ کو ذرا سی جا کے لئےاور اس پہ زندگی نے دام بھی دبا کے لئے

میں جانے کو کہاں کہتا پر ان غموں سے کہوذرا سا راستہ تو چھوڑ دیں ہوا کے لئے

تڑپ رہا ہے کئی روز سے دل بیماردو بول چاہیے تھے آپ سے دوا کے لئے

میں زندگی تری کٹ کٹ سے تنگ آ گیا ہوںتو اپنا منہ تو ذرا بند رکھ خدا کے لئے

ترے جواب نے ساکت ہی کر دیا ہے مجھےزبان کھلتی نہ ہاتھ اٹھتے ہیں دعا کے لئے

— اسماعیل راز