4 اشعار

کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی

Kisi ki baat nahin thi lakeer patthar ki

کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کیہم ایسے ہو گئے کیسے نظیر پتھر کی

تو چپ کیا ترے بارے میں پوچھ کر اس کوبتا رہا تھا فضیلت فقیر پتھر کی

بدلتے موسموں کا ہم پہ کچھ اثر ہی نہیںہماری روح ہے جیسے اسیر پتھر کی

ہمارے دور کا ہر رانجھا بت پرست ہے رازؔہمارے دور کی ہر ایک ہیر پتھر کی

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں