5 اشعار

دوست بہت رہے مگر یار نہیں بنا کوئی

Dost Bahut Rahe Magar Yaar Nahin Bana Koi

دوست بہت رہے مگر یار نہیں بنا کوئییعنی میں چل پڑا تو دیوار نہیں بنا کوئی

اک تو یہ دکھ کہ کوئی حق دار ہی بن گیا ترااس پہ ستم یہ ہے کہ حق دار نہیں بنا کوئی

پھول بکا رہے ہیں ترشول بکانے والے بھیجب سے وہ شہر آیا ہتھیار نہیں بنا کوئی

عشق شناس لوگ تھے سارے اداس لوگ تھےسو مرے شہر سے اداکار نہیں بنا کوئی

شعبدہ‌ باز اب کے مایوس پلٹ گیا ہے رازؔیعنی کہ بےوقوف اس بار نہیں بنا کوئی

— اسماعیل راز