5 اشعار

اک روٹھنے کی ہم کو ادا تک نہیں آئی

Ek roothne ki hum ko adaa tak nahin aai

اک روٹھنے کی ہم کو ادا تک نہیں آئیدل ٹوٹ گیا اور صدا تک نہیں آئی

راہوں پہ چراغوں کو سجایا ہی نہیں آجآج آندھی تو کیا باد صبا تک نہیں آئی

کیا مانگنا تھا ہم کو بھلا ایسا کہ اس بارہاتھ اٹھے مگر لب پہ دعا تک نہیں آئی

غیروں نے وفا کی تو بہت دکھ ہوا ہم کواپنوں سے ہمیں بوئے وفا تک نہیں آئی

پیاسے رہے کتنے ہی مری پیاس کے باعثبارش تو بہت دور گھٹا تک نہیں آئی

— اسماعیل راز