4 اشعار

ہر ایک شخص جہاں انتقام لے رہا تھا

Har Ek Shakhs Jahan Intiqam Le Raha Tha

ہر ایک شخص جہاں انتقام لے رہا تھاوہاں میں صبر و تحمل سے کام لے رہا تھا

اسیر گوشۂ گمنامی جاننے والومیں اپنی ذات میں لطف قیام لے رہا تھا

دوانگی کا سبب پوچھا جا رہا تھا مریمیں چپ تھا اور ہجوم اس کا نام لے رہا تھا

وہ جن کا سوچ کے شہزادے خوف کھا رہے تھےوہ فیصلے تو تمہارا غلام لے رہا تھا

— اسماعیل راز