4 اشعار

نہ چاہتے ہوئے ہونٹوں کو کھول لیتے ہیں

Na Chahte Hue Honton Ko Khol Lete Hain

نہ چاہتے ہوئے ہونٹوں کو کھول لیتے ہیںجھنجھوڑتا کوئی اندر تو بول لیتے ہیں

ہم ایسوں کو نہیں راس آتیں مفت کی چیزیںہم ایسے لوگ مصیبت بھی مول لیتے ہیں

زیادہ دیر نہیں لگتی اب سمجھنے میںدو چار باتوں میں لوگوں کو تول لیتے ہیں

یہاں تو دستکوں پر در بھی کھولتے نہیں لوگہمارے گاؤں میں تو دل بھی کھول لیتے ہیں

— اسماعیل راز