6 اشعار

کوئی امید نہیں باقی مگر دیکھتے ہیں

Koi Umeed Nahin Baqi Magar Dekhte Hain

کوئی امید نہیں باقی مگر دیکھتے ہیںبستر مرگ پہ ہیں جانب در دیکھتے ہیں

ایک مہتاب سر بام فلک ہے روشناور حسرت سے اسے خاک بسر دیکھتے ہیں

اب مری ذات کی لے کر بھی تلاشی کیا ہےمیں ادھر ہوں ہی نہیں آپ جدھر دیکھتے ہیں

اتنی شدت سے تری کم نظری کا دکھ ہےجتنی حیرت سے مجھے اہل نظر دیکھتے ہیں

جتنے رستے ہیں مری واپسی پر ہنستے ہیںاور حقارت سے کناروں کے شجر دیکھتے ہیں

آپ بھی گھیر کے لائے ہوئے لگتے ہیں یہاںآپ بھی کس سے مخاطب ہیں کدھر دیکھتے ہیں

— اسماعیل راز