4 اشعار

جام پر جام پیے جائیں گے ہم

Jaam par jaam piye jaayenge hum

جام پر جام پیے جائیں گے ہماور ترا نام لیے جائیں گے ہم

اتنے بوسیدہ ہیں پھٹتے رہیں گےیار جتنا بھی سیے جائیں گے ہم

چھپکلی سامنے آئے گی اورہاتھ سے چھوڑ دیے جائیں گے ہم

اس بھرم میں نہیں کھونا ہم کوچاہے جب ڈھونڈ لیے جائیں گے ہم

— اسماعیل راز