5 اشعار

جو بھی تھا ختم ہو گیا مجھ میں

Jo Bhi Tha Khatam Ho Gaya Mujh Mein

جو بھی تھا ختم ہو گیا مجھ میںیعنی میں بھی نہیں رہا مجھ میں

کوئی در بند کر گیا میراکوئی گھٹ گھٹ کے مر گیا مجھ میں

کیوں ہے اب تو خموش کیوں ہے بتاڈھونڈنے والے کیا ملا مجھ میں

مر چکا ہوں میں ایک مدت سےاب کوئی اور جی رہا مجھ میں

شب کوئی مجھ میں آ کے رویا خوباور پھر تھک کے سو گیا مجھ میں

— اسماعیل راز