4 اشعار

نکل ہی آتی تھی صورت کبھی پلٹنے کی

Nikal hi aati thi soorat kabhi palatne ki

نکل ہی آتی تھی صورت کبھی پلٹنے کیپر اس نے کی نہیں نیت کبھی پلٹنے کی

تمام عمر اسی کا انتظار کرتے رہےکہ جس میں تھی نہیں عادت کبھی پلٹنے کی

اب ایک سنگ کی صورت پڑے ہیں در پہ ترےچکا رہے ہیں یوں قیمت کبھی پلٹنے کی

وگرنہ وہ تو نہ تھا اس قدر بھی سخت مزاجہمیں نے کی نہیں ہمت کبھی پلٹنے کی

— اسماعیل راز