4 اشعار

زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مرے

Zindagi tu ne sulook aise kiye saath mere

زندگی تو نے سلوک ایسے کیے ساتھ مرےوہ تو اچھا ہے کہ باندھے ہوئے ہیں ہاتھ مرے

روز میں لوٹتا ہوں خود میں ندامت کے ساتھروز مجھ کو کہیں پھینک آتے ہیں جذبات مرے

میں وراثت میں ملا تھا مرے نا قدروں کویعنی ممکن نہیں مل پائیں نشانات مرے

مجھ کو سنیے نظر انداز نہ کیجے صاحبمیرے حالات سے اچھے ہیں خیالات مرے

— اسماعیل راز