5 اشعار

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا

Teri gali ko chhoD ke paagal nahin gaya

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیارسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا

مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں میں نے شہر کویعنی میں ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا

اس کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دےپھر کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا

ہائے وہ آنکھیں ٹاٹ کو تکتے ہی بجھ گئیںہائے وہ دل کہ جانب مخمل نہیں گیا

تیرے مکاں کے بعد قدم ہی نہیں اٹھےتیرے مکاں سے آگے میں پیدل نہیں گیا

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں