5 اشعار

زمانہ اس لیے لہجہ بدل رہا ہے دوست

Zamāna is liye lehja badal raha hai dost

زمانہ اس لیے لہجہ بدل رہا ہے دوستہمارا وقت ذرا پیچھے چل رہا ہے دوست

میں مسکرا رہا ہوں تیری رخصتی پہ اگرتو مجھ میں کون ہے جو ہاتھ مل رہا ہے دوست

نہ مل سکی مرے حصے کی روشنی بھی مجھےمرا چراغ کہیں اور جل رہا ہے دوست

پلید کر کے ہمارے وجود کی مٹیہمارے نام کا سورج نکل رہا ہے دوست

بتائیں کیا تجھے اب خستہ حالیٔ دل رازؔشکستہ خواب کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے دوست

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں