5 اشعار

تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتی

Teri Mehfil Meri Shirkat Nahin Dekhi Jati

تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتیکئی آنکھوں سے یہ ساعت نہیں دیکھی جاتی

تیرے ہاتھوں کی مشقت پہ ترس آتا ہےتیری زلفوں کی شرارت نہیں دیکھی جاتی

ڈر رہا ہوں کہ تکبر نہ کہیں دل میں پلےدیکھنے والوں کی حیرت نہیں دیکھی جاتی

اپنے حق میں کسی دشمن کی طرح سوچتا ہوںیعنی مجھ سے مری شہرت نہیں دیکھی جاتی

دل تو قائل نہیں تجدید محبت کا مگرتیرے چہرے کی ندامت نہیں دیکھی جاتی

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں