3 اشعار

یہ دل پہ ایک زخم ہے جو تیرے ہاتھ کا

Yeh Dil Pe Ek Zakhm Hai Jo Tere Haath Ka

یہ دل پہ ایک زخم ہے جو تیرے ہاتھ کایہ داغ ہی چراغ ہے میری حیات کا

خوش ہوں کسی کے ساتھ اسے خوش دیکھ کے مگرکوئی یقین کرتا نہیں میری بات کا

یوں اٹھ کے چل دیا وہ کسی کے پکارے پرجیسے کہ دیکھتا ہی تھا رستہ نجات کا

— اسماعیل راز