4 اشعار

یار یہ لوگ تو کہہ دیتے ہیں سب سے باتیں

Yaar yeh log to keh dete hain sab se baatein

یار یہ لوگ تو کہہ دیتے ہیں سب سے باتیںمیں کسی سے بھی کروں گا نہیں اب سے باتیں

دل وہ در ہے جو سر عرش بریں کھلتا ہےروز کرتا ہوں میں دل کھول کے رب سے باتیں

فوقیت دیتا ہوں ہر بات کو خاموشی پردل پہ لے لی تھیں کسی شخص نے جب سے باتیں

حضرت عشق کا حجرہ ہے ذرا دھیان رہےیاں شہنشاہ بھی کرتے ہیں ادب سے باتیں

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں