7 اشعار

بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے

Begana-e-qayood-e-bahaar o khizaan rahe

بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے

«بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہےیا رب مرا جنون محبت جواں رہے

یہ بھی سمجھ سکی ہے نہ اب تک نگاہ شوقتم نے کہاں فریب دیا اور کہاں رہے

دنیا میں چاک دل کو نہیں پوچھتا کوئیکیا جانے کتنے اہل جنوں بے نشاں رہے

اس انجمن میں ہم بھی پہنچ تو گئے مگرجب تک رہے مزاج‌ نظر پر گراں رہے

کیا کیا جفائیں کی ہیں ہر اک آرزو کے ساتھاور اس طرح کہ ان پہ وفا کا گماں رہے

اب یوں کرم نہ کر کہ بہ ایں وصف حسن و نازشاید تجھے بھی عشق کا سودا گراں رہے

لینے دے اپنا نام بھی مجھ کو کہ میرے بعدتو بھی مری غزل کے سبب جاوداں رہے

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں