9 اشعار

کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیے

Koi bahaar ki khaatir koi khizaan ke liye

کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیے

«کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیے» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیےبس ایک میں ہی رہا صرف گلستاں کے لیے

الٰہی مجھ سے نظر چھین لے کہ اہل نظرتمام عمر تڑپتے ہیں رازداں کے لیے

مسرتیں جو ملیں تیرے لطف پیہم سےمچل رہی ہیں کسی جور ناگہاں کے لیے

مجھے ہیں خار سے کچھ خاص نسبتیں کہ یہ گلبہار میں نہ کھلا رونق خزاں کے لیے

ہمیں ان اہل سخن میں نہ کر شمار کہ یہفغاں بھی کرتے ہیں خوش وقتئ فغاں کے لیے

کریں نہ ذکر تمہارا تو کیا کریں کہ ہمیںکچھ اور مل نہ سکا اپنی داستاں کے لیے

ہمارے دیس میں ایران و نجد سے استادبلائے جاتے ہیں تعلیم عاشقاں کے لیے

ہمارے شہر میں فن کے اجارہ داروں نےکچل رکھا ہے دلوں کو فقط زباں کے لیے

ہم اپنے دیس اور اپنے ہی شہر میں عالیؔگدا گری پہ ہیں مجبور سوز جاں کے لیے

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں