7 اشعار

یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئے

Ye ishq ki galiyan jin mein hum kis kis aalam mein aaye gaye

یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئے

«یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئے» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئےکہتی ہیں کہ حضرت اب کیسے تم آج یہاں کیوں پائے گئے

اک شرط ہے یاں خوشبوئے وفا یاد آئے تو کرنا یاد ذراجب تم پہ بھروسا تھا گل کا کیا مہکے کیا مہکائے گئے

ہے یہ وہی لوح باب جنوں لکھا ہے نہ پوچھو کیا اور کیوںتم لائے کلید جذب دروں اور سب منظر دکھلائے گئے

اک تخت روان شعر آیا کچھ شاہ سخن نہ فرمایاپھر تاج ترنم پہنایا اور غزلوں میں تلوائے گئے

اک طبع رسا سے کیا بنتا یہ ان گلیوں کا صدقہ تھاوہ لفظ اور وہ اسلوب ملے اور وہ معنی سجوائے گئے

حیرت سے ٹھہر جاتی تھی یہاں یہ کہتی ہوئی ہر کاہکشاںجب یوں مل جانا ممکن ہے تو پھر ہم کیوں پھیلائے گئے

دنیا کے سہی انداز بہت ان گلیوں کے بھی ہیں راز بہتجو ٹھہرے وہ سرافراز ہوئے جو نکلے وہ ٹھکرائے گئے

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں