7 اشعار

ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگی

Zehn par chha gai maut ki be-hisi neend aane lagi

ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگی

«ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگی» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگیڈھونڈھتا ہوں اندھیروں میں آسودگی نیند آنے لگی

بھاگتے بھاگتے موت کے سائے سے خود ہی دھندلا گئےسوچتے سوچتے زندگی زندگی نیند آنے لگی

ہیں اسی عہد میں سو تصور حسیں کوئی اپنا نہیںتھک گئی ہے مرے شوق کی سادگی نیند آنے لگی

ختم ہیں روز و شب کی پریشانیاں اور حیرانیاںتھی وہ کیا شے جو اب تک نہیں مل سکی نیند آنے لگی

حیرت انگیز رنگوں میں لپٹی ہوئی مضطرب نغمگیآج تک اپنی لے میں نہیں ڈھل سکی نیند آنے لگی

حوصلوں کا ہی انجام ہیں تجربے بس بھرےآشتی آشتی آشتی آشتی نیند آنے لگی

کیا ملا نغم و رنگ کے شوق سے شعر کے ذوق سےاک چبھن اک دکھن ایک واماندگی نیند آنے لگی

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں