دیر تک روشنی رہی کل رات
دیر تک روشنی رہی کل راتمیں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات
ایک مدت کے بعد دھند چھٹیدل نے اپنی کہی سنی کل رات
کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ
مہمان شاعر: زہرا نگاہ
دیر تک روشنی رہی کل راتمیں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات
ایک مدت کے بعد دھند چھٹیدل نے اپنی کہی سنی کل رات
جنون اولیں شائستگی تھیوہی پہلی محبت آخری تھی
جہاں ہم پھر سے بسنا چاہتے تھےوہ بستی ہو کے دنیا ہو چکی تھی
حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھیتم سے بات کرنے کی کیسی آرزو کی تھی
ساتھ ساتھ چلنے کی کس قدر تمنا تھیساتھ ساتھ کھونے کی کیسی جستجو کی تھی
رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتامنزل پہ بھی آ جاتے نقشہ بھی بدل جاتا
اس جھوٹ کی دلدل سے باہر بھی نکل آتےدنیا میں بھی سر اٹھتا اور گھر بھی سنبھل جاتا
تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوںاپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا
تم تو وفا میں سرگرداں ہو شوق میں رقصاں رہتی ہومجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے میں پاگل ہو جاؤں گا
بزم سے جب نگار اٹھتا ہےمیرے دل سے غبار اٹھتا ہے
میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامتدیکھ لو بار بار اٹھتا ہے