12 اشعار

ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں

Eezā-dehi ki dād jo paata raha hoon main

ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں

«ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میںہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں

اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذراتجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں

اک حسن بے مثال کی تمثیل کے لیےپرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں

کیا مل گیا ضمیر ہنر بیچ کر مجھےاتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں

روحوں کے پردہ پوش گناہوں سے بے خبرجسموں کی نیکیاں ہی گناتا رہا ہوں میں

تجھ کو خبر نہیں کہ ترا کرب دیکھ کراکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئیلیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں

اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نامپاگل تجھی کو یاد بھی آتا رہا ہوں میں

جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباباس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں

اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکاذروں کو آفتاب بناتا رہا ہوں میں

بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آگہیتیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں

کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہیبس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں

— جون ایلیا