14 اشعار

ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر

Hum jee rahe hain koi bahana kiye baghair

ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر

«ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیراس کے بغیر اس کی تمنا کئے بغیر

انبار اس کا پردۂ حرمت بنا میاںدیوار تک نہیں گری پردا کیے بغیر

یاراں وہ جو ہے میرا مسیحائے جان و دلبے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر

میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاسصبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

اس کا ہے جو بھی کچھ ہے مرا اور میں مگروہ مجھ کو چاہئے کوئی سودا کیے بغیر

یہ زندگی جو ہے اسے معنیٰ بھی چاہیےوعدہ ہمیں قبول ہے ایفا کیے بغیر

اے قاتلوں کے شہر بس اتنی ہی عرض ہےمیں ہوں نہ قتل کوئی تماشا کیے بغیر

مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہےتم چھوڑیو نہ شہر کو صحرا کیے بغیر

ان آنگنوں میں کتنا سکون و سرور تھاآرائش نظر تری پروا کیے بغیر

یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہمیںسب کچھ ہے خوش گوار گوارا کیے بغیر

گریہ کناں کی فرد میں اپنا نہیں ہے نامہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر

آخر ہیں کون لوگ جو بخشے ہی جائیں گےتاریخ کے حرام سے توبہ کیے بغیر

وہ سنی بچہ کون تھا جس کی جفا نے جونؔشیعہ بنا دیا ہمیں شیعہ کیے بغیر

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھیرخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

— جون ایلیا