8 اشعار

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں

Hum toh jaise wahaan ke the hi nahin

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں

«ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیںبے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں

ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسرہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں

ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھابال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں

اب ہمارا مکان کس کا ہےہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں

ہو تری خاک آستاں پہ سلامہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں

ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچاکچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں

دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کولوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیاجانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

— جون ایلیا