14 اشعار

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

Umar guzregi imtihan mein kya

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

«عمر گزرے گی امتحان میں کیا» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

عمر گزرے گی امتحان میں کیاداغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

میری ہر بات بے اثر ہی رہینقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیںیہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

اپنی محرومیاں چھپاتے ہیںہم غریبوں کی آن بان میں کیا

خود کو جانا جدا زمانے سےآ گیا تھا مرے گمان میں کیا

شام ہی سے دکان دید ہے بندنہیں نقصان تک دکان میں کیا

اے مرے صبح و شام دل کی شفقتو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا

بولتے کیوں نہیں مرے حق میںآبلے پڑ گئے زبان میں کیا

خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیاآ رہا ہے مرے گمان میں کیا

دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہتخود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا

وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھےاب بھی ہوں میں تری امان میں کیا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو توکوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

ہے نسیم بہار گرد آلودخاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتاایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

— جون ایلیا