بارہواں کھلاڑی
کلام: افتخارعارف
خوش گوار موسم میںان گنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کوداد دینے آتے ہیں
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
خوش گوار موسم میںان گنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کوداد دینے آتے ہیں
جس روز ہمارا کوچ ہوگاپھولوں کی دکانیں بند ہوں گی
شیریں سخنوں کے حرف دشنامبے مہر زبانیں بند ہوں گی
زمانے بھر کو اداس کر کےخوشی کا ستیا ناس کر کے
میرے رقیبوں کو خاص کر کےبہت ہی دوری سے پاس کر کے
شب ہجر ہائی زخمی جگر ہائیہوا دے شوکاٹ اچ سیاہ کالی رات اچ
قدم لڑکھڑاون تے ٹھڈے وی آونرستے دی سرنہیں فقط اتنا یاد اے