5 اشعار

نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے

Nigal gaye sab ki sab samundar zameen bachi ab kahin nahin hai

نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے

«نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہےبچاتے ہم اپنی جان جس میں وہ کشتی بھی اب کہیں نہیں ہے

بہت دنوں بعد پائی فرصت تو میں نے خود کو پلٹ کے دیکھامگر میں پہچانتا تھا جس کو وہ آدمی اب کہیں نہیں ہے

گزر گیا وقت دل پہ لکھ کر نہ جانے کیسی عجیب باتیںورق پلٹتا ہوں میں جو دل کے تو سادگی اب کہیں نہیں ہے

وہ آگ برسی ہے دوپہر میں کہ سارے منظر جھلس گئے ہیںیہاں سویرے جو تازگی تھی وہ تازگی اب کہیں نہیں ہے

تم اپنے قصبوں میں جا کے دیکھو وہاں بھی اب شہر ہی بسے ہیںکہ ڈھونڈھتے ہو جو زندگی تم وہ زندگی اب کہیں نہیں ہے

— جاوید اختر