5 اشعار

نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے

Na khushi de to kuch dilasa de

نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے

«نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دےدوست جیسے ہو مجھ کو بہلا دے

آگہی سے ملی ہے تنہائیآ مری جان مجھ کو دھوکہ دے

اب تو تکمیل کی بھی شرط نہیںزندگی اب تو اک تمنا دے

اے سفر اتنا رائیگاں تو نہ جانہ ہو منزل کہیں تو پہنچا دے

ترک کرنا ہے گر تعلق توخود نہ جا تو کسی سے کہلا دے

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں