13 اشعار

آثار قدیمہ

Aasaar-e-Qadeema

آثار قدیمہ

«آثار قدیمہ» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

ایک پتھر کی ادھوری مورتچند تانبے کے پرانے سکے

کالی چاندی کے عجب سے زیوراور کئی کانسے کے ٹوٹے برتن

ایک صحرا ملےزیر زمیں

لوگ کہتے ہیں کہ صدیوں پہلےآج صحرا ہے جہاں

وہیں اک شہر ہوا کرتا تھااور مجھ کو یہ خیال آتا ہے

کسی تقریبکسی محفل میں

سامنا تجھ سے مرا آج بھی ہو جاتا ہےایک لمحے کو

بس اک پل کے لئےجسم کی آنچ

اچٹتی سی نظرسرخ بندیا کی دمک

سرسراہٹ تری ملبوس کیبالوں کی مہک

بے خیالی میں کبھیلمس کا ننھا سا پھول

اور پھر دور تک وہی صحراوہی صحرا کہ جہاں

کبھی اک شہر ہوا کرتا تھا

— جاوید اختر