7 اشعار

پیاس کی کیسے لائے تاب کوئی

Pyaas ki kaise laaye taab koi

پیاس کی کیسے لائے تاب کوئی

«پیاس کی کیسے لائے تاب کوئی» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

پیاس کی کیسے لائے تاب کوئینہیں دریا تو ہو سراب کوئی

زخم دل میں جہاں مہکتا ہےاسی کیاری میں تھا گلاب کوئی

رات بجتی تھی دور شہنائیرویا پی کر بہت شراب کوئی

دل کو گھیرے ہیں روزگار کے غمردی میں کھو گئی کتاب کوئی

کون سا زخم کس نے بخشا ہےاس کا رکھے کہاں حساب کوئی

پھر میں سننے لگا ہوں اس دل کیآنے والا ہے پھر عذاب کوئی

شب کی دہلیز پر شفق ہے لہوپھر ہوا قتل آفتاب کوئی

— جاوید اختر