8 اشعار

ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے

Saari hairat hai meri saari adaa us ki hai

ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے

«ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہےبے گناہی ہے مری اور سزا اس کی ہے

میرے الفاظ میں جو رنگ ہے وہ اس کا ہےمیرے احساس میں جو ہے وہ فضا اس کی ہے

شعر میرے ہیں مگر ان میں محبت اس کیپھول میرے ہیں مگر باد صبا اس کی ہے

اک محبت کی یہ تصویر ہے دو رنگوں میںشوق سب میرا ہے اور ساری حیا اس کی ہے

ہم نے کیا اس سے محبت کی اجازت لی تھیدل شکن ہی سہی پر بات بجا اس کی ہے

ایک میرے ہی سوا سب کو پکارے ہے کوئیمیں نے پہلے ہی کہا تھا یہ صدا اس کی ہے

خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کےوہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے

اس نے ہی اس کو اجاڑا ہے اسے لوٹا ہےیہ زمیں اس کی اگر ہے بھی تو کیا اس کی ہے

— جاوید اختر