7 اشعار

شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب

Shukar hai khairiyat se hoon sahib

شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب

«شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

شکر ہے خیریت سے ہوں صاحبآپ سے اور کیا کہوں صاحب

اب سمجھنے لگا ہوں سود و زیاںاب کہاں مجھ میں وہ جنوں صاحب

ذلت زیست یا شکست ضمیریہ سہوں میں کہ وہ سہوں صاحب

ہم تمہیں یاد کرتے رو لیتےدو گھڑی ملتا جو سکوں صاحب

شام بھی ڈھل رہی ہے گھر بھی ہے دورکتنی دیر اور میں رکوں صاحب

اب جھکوں گا تو ٹوٹ جاؤں گاکیسے اب اور میں جھکوں صاحب

کچھ روایات کی گواہی پرکتنا جرمانہ میں بھروں صاحب

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں