7 اشعار

ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

Zara mausam to badla hai magar pedon ki shaakhon par naye patton ke aane mein abhi kuch din lagenge

ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

«ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گےبہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

کبھی ہم کو یقیں تھا زعم تھا دنیا ہماری جو مخالف ہے تو ہو جائے مگر تم مہرباں ہوہمیں یہ بات ویسے یاد تو اب کیا ہے لیکن ہاں اسے یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

جہاں اتنے مصائب ہوں جہاں اتنی پریشانی کسی کا بے وفا ہونا ہے کوئی سانحہ کیابہت معقول ہے یہ بات لیکن اس حقیقت تک دل ناداں کو لانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

کوئی ٹوٹے ہوئے شیشے لئے افسردہ و مغموم کب تک یوں گزارے بے طلب بے آرزو دنتو ان خوابوں کی کرچیں ہم نے پلکوں سے جھٹک دیں پر نئے ارماں سجانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

توہم کی سیہ شب کو کرن سے چاک کر کے آگہی ہر ایک آنگن میں نیا سورج اتارےمگر افسوس یہ سچ ہے وہ شب تھی اور یہ سورج ہے یہ سب کو مان جانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

پرانی منزلوں کا شوق تو کس کو ہے باقی اب نئی ہیں منزلیں ہیں سب کے دل میں جن کے ارماںبنا لینا نئی منزل نہ تھا مشکل مگر اے دل نئے رستے بنانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

اندھیرے ڈھل گئے روشن ہوئے منظر زمیں جاگی فلک جاگا تو جیسے جاگ اٹھی زندگانیمگر کچھ یاد ماضی اوڑھ کے سوئے ہوئے لوگوں کو لگتا ہے جگانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

— جاوید اختر