7 اشعار

یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب

Yeh tasalli hai ke hain nashaad sab

یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب

«یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سبمیں اکیلا ہی نہیں برباد سب

سب کی خاطر ہیں یہاں سب اجنبیاور کہنے کو ہیں گھر آباد سب

بھول کے سب رنجشیں سب ایک ہیںمیں بتاؤں سب کو ہوگا یاد سب

سب کو دعوائے وفا سب کو یقیںاس اداکاری میں ہیں استاد سب

شہر کے حاکم کا یہ فرمان ہےقید میں کہلائیں گے آزاد سب

چار لفظوں میں کہو جو بھی کہواس کو کب فرصت سنے فریاد سب

تلخیاں کیسے نہ ہوں اشعار میںہم پہ جو گزری ہمیں ہے یاد سب

— جاوید اختر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں