8 اشعار

ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں

Haath mein kya nahin ke tum se kahein

ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں

«ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

ہاتھ میں کیا نہیں کہ تم سے کہیںہم کو زیبا نہیں کہ تم سے کہیں

دل کسی وجہ سے دکھی ہے مگرکچھ بھی ایسا نہیں کہ تم سے کہیں

ذہن الجھا ہوا ہے کچھ دن سےلیکن اتنا نہیں کہ تم سے کہیں

ورنہ اب تک نہ کہہ چکے ہوتےکبھی چاہا نہیں کہ تم سے کہیں

خامشی اشک روگ مرگ فرارایک رستہ نہیں کہ تم سے کہیں

تم کو آتا نہیں کہ ہم سے کہوہم سے ہوتا نہیں کہ تم سے کہیں

کہے دیتے ہیں دل کی بات چلوخیر بنتا نہیں کہ تم سے کہیں

یوںہی اک کیفیت سی ہے جوادؔکوئی قصہ نہیں کہ تم سے کہیں

— جواد شیخ