10 اشعار

میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو

Main chahta hoon ke dil mein tera khayal na ho

میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو

«میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہو» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ دل میں ترا خیال نہ ہوعجب نہیں کہ مری زندگی وبال نہ ہو

میں چاہتا ہوں تو یک دم ہی چھوڑ جائے مجھےیہ ہر گھڑی ترے جانے کا احتمال نہ ہو

میں چاہتا ہوں محبت پہ اب کی بار آئےزوال ایسا کہ جس کو کبھی زوال نہ ہو

میں چاہتا ہوں محبت سرے سے مٹ جائےمیں چاہتا ہوں اسے سوچنا محال نہ ہو

میں چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دےفنا بھی ایسا کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

میں چاہتا ہوں محبت مرا وہ حال کرےکہ خواب میں بھی دوبارہ کبھی مجال نہ ہو

میں چاہتا ہوں کہ اتنا ہی ربط رہ جائےوہ یاد آئے مگر بھولنا محال نہ ہو

میں چاہتا ہوں مری آنکھیں نوچ لی جائیںترا خیال کسی طور پامال نہ ہو

میں چاہتا ہوں کہ میں زخم زخم ہو جاؤںاور اس طرح کہ کبھی خوف اندمال نہ ہو

مری مثال ہو سب کی نگاہ میں جوادؔمیں چاہتا ہوں کسی اور کا یہ حال نہ ہو

— جواد شیخ