7 اشعار

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے

Koi itna pyara kaise ho sakta hai

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے

«کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہےپھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے

تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتیتیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے

کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہےایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے

یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہےلفظ کوئی انگارا کیسے ہو سکتا ہے

کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہےدرد کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے

ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیںوہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے

کیسے ہو سکتا ہے جو کچھ بھی میں چاہوںبول نا میرے یارا کیسے ہو سکتا ہے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں